"That consciousness is everything and that all things begin with a thought. That we are responsible for our own fate, we reap what we sow, we get what we give, we pull in what we put out. I know these things for sure."

Madonna

Name:
E-Mail:

Message:


Google PageRank™ - Post your PR with 
MyGooglePageRank.com

Name: Shaper

Wednesday, May 21, 2008

پہلی نظر میں

پہلی نظر میں
کیسا جادو کر دیا
تیرابن بیٹھا ہے
میرا جیا
جانے کیا ہوگا
کیا ہوگا کیا پتا
اس پل کو مل کے
آ جی لے ذرا

میں ہوں یہاں
تو ہے یہاں
میری بہا‌‌وں میں آ
آبھی جا
او جانے جاں
دونوں جہاں
میری بہا‌وں میں آ
بھول جاا

او جان جاں
دونوں جہاں
میری بہاوں میں آ
بھول جا ا

ہر دعا میں شامل تیرا پیار ہے
بن تیرے لمحہ بھی دشوار ہے
دھڑکنوں کو تجھ سے ہی درکار ہے
تجھ سے ہے راحتیں
تجھ سے ہے چہاتیں


توجو ملی اک دن مجھے
میں کہیں ہو گیا لا پتہ

او جان جاں
دونوں جہاں
میری بہاوں میں آ
بھول جا ا


کردیا دیوانہ درد خاص نے
چین جہنا عشق کے حساس نے
بے خیالی دی ہے تیری پیاس نے
چھایا سرور ہے
کچھ تو ضرور ہے


او جان جاں
دونوں جہاں
میری بہاوں میں آ
بھول جا ا

یہ دوریاں
جینے نہ دے
حال میرا تجھے نہ پتا

او جان جاں
دونوں جہاں
میری بہاوں میں آ
بھول جا ا


Monday, May 12, 2008

I'm back

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جا‌ؤں گا

Friday, September 08, 2006

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے
صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا
اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
سایہ ابر کی مانند گزر جاؤں گا
تیرا پیماں وفا راہ کی دیوار بنا
ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا، مرجاؤں گا
چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں
زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا
اب تو خورشید کو ڈوبے ہوئے صدیاں گزریں
اب اسے ڈھونڈنے میں تا بہ سحر جاؤں گا
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

احمد ندیم قاسمی

Saturday, June 24, 2006

In A Nutshell

I think of you often
Do you think of me?
So sweet, so kind,
Do I even cross your mind?
I know your face in my mind,
I know your voice in my ears,
I think I know you,
Even through these years.

Are you my friend?
Are you my love?
That couldn't be,
You don't even see me.

I cry myself to sleep,
Every night my mind wanders,
If you're not the first thing,
You're the second thing on mind.

My eyes see you,
My heart aches,
For a love I assume,
Will someday bloom.

Who said friends could be lovers?
What were they thinking?
My love life, sinking or swimming?
It's sinking.

I am scared
I am afraid
My life right now
Is one big show.

Episode after episode,
Re- run after re- run
Why do I love you?
Let me show you.

When you are around me
So is the thought of her
I wish deeply
You weren't with she.

I have respect for a couple
What they share is beautiful
But what about the little people?
Whom you don't even see?

When you are my friend
I am yours
Your company completes me
Whenever you take the time.

To tell you the words
The three "easy" ones
I have to say,
And hard in a way.

Will you be calm?
Will you hate me after?
Will you be my friend?
Or will everything end?

With love, there's lust,
I lust for you,
I love you.
As for your thoughts on me?


by Sara Suvada

Tuesday, May 23, 2006

You Are So Beautiful

You are so beautiful
To me
You are so beautiful
To me
Can't you see
You're everything I hoped for
You're everything I need
You are so beautiful to me
You are so beautiful to me
You are so beautiful
To me
Can't you see
You're everything I hoped for
You're every, everything I need
You are so beautiful to me
Yes You are
You Are So Beautiful Lyrics from Joe Cocker

Sunday, April 09, 2006

دیوداس

چلو پھر ٹھونڈ لائیں ہم اسی معصوم وقت کو
جہاں سپنہ سجایا تھا
جہاں بچپن بتایاتھا
جہاں پیڑوں کے سائے میں گھروندا ایک بنایا تھا

عورت ماں ہوتی ہے ۔۔ بہن ہوتی ہے ۔۔۔ بیٹی ہوتی ہے ۔۔۔ بیوی ہوتی ۔۔ دوست ہوتی ہے اور جب وہ کچھ نہیں ہوتی تو طوائف ہوتی ہے ۔۔۔ تم کچھ اور بن سکتی ہو چندر مکھی

بابو جی نے کہا گاؤں چھوڑ دو ۔۔ پارو نے کہا شراب چھوڑ دو آج تم نے کہا گھر چھوڑ دو ایک دن آئے گا جب وہ کہےگا کہ یہ دنیا ہی چھوڑ دو ۔۔ ماں میں تمہارا حصہ ہوں اور یہ حق مجھ سے کوئی نہیں چھین سکھتا ۔۔ تم بھی نہیں

پہلا پیار عمر کے فرق کی طرح ہوتاہے جسے چاہتے ہوئے کوئی نہیں مٹا سکتا

Friday, March 31, 2006

ایک پوسٹ ۔۔۔ ایک افسانہ

کارٹون ۔۔۔۔ از ڈاکٹر بلند اقبال

محمد شجاع دبے پا‌وں
کمرے میں داخل ہوا کمرے میں ہمیشہ کی طرح اندھیرا تھا ۔ ایک لمحے کیلئے اسے خیال آیا کہ بتی جلائے مگر پھر اس خیال سے کہ بابا کو روشنی سے وحشت سی ہوتی ہے اس نے اپنا ارادہ ترک کردیا بابا ہمیشہ کی طرح چارپائی پر بیٹھا سر جھکائے زمین کو تک رہا تھا کندھوں پہ سفید سوتی چادر سر کو ڈھکتی ہوئی چارپائی کے کناروں کو چھورہی تھی کمرے میں کہنے کو ایک گہری خاموشی تھی مگر ماحول میں سکون کم وحشت زیادہ تھی ایسی وحشت جو کسی کے مرنے سے پہلے یا فوران بعد ہوجاتی ہے

محمد شجاع بابا کے قریب آیا اور اس کی چارپائی کے قریب اکڑوں ہو کر بیٹھ گیا اور پھر اس نے آہستگی سے بابا کے جھریوں بھرے کانپتے ہوئے ہاتھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ دیے۔ بابا میری مدد کرو نا وہ آہستہ سے بڑبڑایا دیکھونا بابا میں کتنا پریشان ہوں یہ مجھے کیا ہوگیا ہے۔ کیسی عجیب سی بیماری مجھے لگ گئی ہے جس کا علاج کسی حکیم کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں اور جب بھی میں کسی سے اس کا تذکرہ کرتا ہوں تو لوگ مجھ پہ ہنستے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ جیسے میں ان سے مذاق کر رہا ہوں بابا مگر تم تو میرے باپ ہونا تم تو مجھے بچپن سے جانتے ہو اب تو میں بھی پچاس برس کا ہوچلا ہوں میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے تمھیں پتہ ہے بابا محمد شجاع نے اپنے باپ کے کان میں سرگوشی کی میرے اندر ایک کارٹون رہتا ہے ہاں بابا ایک کارٹون،جیتا جاگتا کارٹون، ناچتا گاتا ، اچھلتا پھانگتا ، منہ چڑانے والا کارٹون، بابا وہ کارٹون ہو بہو میری شکل کا ہے میرے جیسا ناک نقشہ میری ہی جیسی ادائیں وہ اچانک مجھ میں سے نمودار ہوتا ہے تمھیں پتہ ہے بابا پہلی بار میں نے اسے کب دیکھا تھا؟ میں مسجد سے نماز پڑھ کر نکل رہا تھا میرے ہاتھوں میں تمہاری ہی دی ہوئی تسبیح تھی جس کے دانوں کو میں پڑھتا ہوا میں گھر آرہا تھا کہ اس کی دم لمبی ہوگئی اور شکل بندر جیسی اور پھر ایسے لگا جیسے کہہ رہا ہو کہ یہ ساری نمازیں پڑھ کر بھی تو مجھے بندر جیسا لگتا ہے ہاں بابا یہ ٹھیک ہے میں ضرورتوں اور خواہشوں کا محتاج ہوں میں بھی مصلحتوں کا مارا ہوا انسان ہوں آساشوں کا طلبگار ہوں مجھ میں نمائش ہے ظاہرداری ہے میں غیبت بھی کرتا ہوں رشوت بھی لیتا ہوں اور جو وقت پڑے تو دوسروں کا مال بھی کھا جاتا ہوں مگر بابا پھر میں دن رات عبادتیں بھی تو کرتا ہوں اور ہاں بابا تمھیں پتہ ہے جب میں روز صبح قران شریف کی تلاوت کرتا ہوں تو یہ کمبخت کارٹون مجھ میں سے نکل کر کسی طوطے کی شکل میں ڈھل جاتا ہے اور پھر مجھ سے ٹرا ٹرا کر کہتا ہے تو کتا پڑھ بھی طوطےجیسا لگتا ہے کیونکہ تو اسے طوطے کی طرح تو پڑھتا ہے اور پھر وہ اپنی کرہیہ آواز سے زور زور سے دہراتا ہے تجھے معنی اور مطلب سے کیا مطلب؟ اور بابا جب میں روزے رکھتا ہوں تو یہ کارٹون میرے پیٹ کا کیڑا بن جاتا ہے اور اندر سے میرے خالی پیٹ کو ڈھول کی طرح بجاتا ہے اور کہتا ہے جیسا دماغ ویساپیٹ، بابا تم ہی کہو اگر میرے پڑوسی بھوکے سوتے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور میں تو روزے کی پیاس جنت کے دودھ کی نہروں سے بجھانا چاہتا ہوں بابا مجھے بتاؤ نا آخر یہ کارٹون مجھ سے کیا چاہتا ہے تمھیں پتا ہے بابا کل رات اس نے کیا حرکت کی؟ کل رات یہ کہیں سے ایک ترازولے آیا اور وہ بھی ایک پلڑے کا اور پھر مجھ سے چیخ چیخ کر کہنے لگا تیری زندگی محض ایک پنساری کی دوکان ہے اور پھر مجھے دیکھ کر پیٹ پکڑ پکڑ کر ہنستا اور قلابازیاں لگاتا ہوا اچانک نظروں کے سامنے سے غائب ہوگیا۔ اور پھر یکایک ایک بھوت بن کر آگیا اور چیخ کر کہنے لگا ترازو کے ایک پلڑے پہ یہ تیری عبادیتں اور دوسرا پلڑا جیسے بھوت ۔ بابا مجھے بہت ڈر لگتا ہے کچھ کہو نا بابا میں کیا کروں؟ کیسے اس کمبخت کارٹون سے نجات پاؤں۔
یہ کہہ کر محمد شجاع دھاڑے مار مار کر رونے لگا کچھ دیر بعد بابا نے آہستہ سے اپنا سر اٹھایا ۔ محمد شجاع نے دیکھا کہ بابا کی سفید پلکوں پہ آنسوں چمک رہے تھے اس کا چہرہ جیسے کسی اندرونی کرب سے کانپ رہا تھا بابا نے روتے ہوئے کہا بیٹا تو مجھ سے کیا پوچھ رہا ہے میں تو خود بھی ایک ۔۔۔۔

اور محمد شجاع کو اچانک لگا جیسے اس کے باپ کی روتی ہوئی شکل ہو بہو اس کے کارٹون جیسی ہی تو ہے
لنکس