Sunday, November 13, 2005

 

جہاد


ایک دفعہ ایک صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو‏ئے اور جہاد کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے ماں باپ کے بارے میں پوچھاتو انھوں نے بتایا کہ وہ زندہ ہیں ۔۔۔ تو حضوراکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ جاؤ ان کی خدمت کرو۔۔۔ تمہارے لیے یہ ہی جہاد ہے۔ یہ واقعہ میں نے پاکستان میں اپنے اسکول کی دنیات میں پڑھا تھا۔۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ابھی بھی اس کتاب میں موجود ہو۔

جہاد کے لفظی معنی جدوجہد کرنے کے ہیں یہ جدوجہد فلاحی بھی ہوسکتی ہے اور مسلحہ بھی۔۔

اسلام نے ہمیں جو جہاد کی تعریف دی ہے وہ یہ ہے " ایک ایسی جدوجہد جو اسلام ، مسلمانوں یا نفس کی بقا‏‏ء اور سلامتی کے لیے ہو"۔ وہ مسلمان جو جہاد کرتے ہیں انھیں مجاہدین کہا جاتا ہے

اسلام کے پانچ ستون ہیں

توحید
نماز
زکواۃ
روزہ
حج

ان پانچ ستونوں میں جہاد نہیں ہے ۔۔ بہت سے مسلمان کہتے ہیں کہ چھٹہ رکن جہاد ہے۔ جو واقعہ ہم نے اپنی اسکول کی کتاب میں پڑھا تھا اسکے مطابق جہاد سے پہلے والدین کی خدمت ہے اگر ہم جہاد کو چھٹا ستون مان بھی لیں تو پہلے توحید پھر نماز پھر زکواۃ پھر روزہ اور پھر حج ہے


جہاد کی دو بڑی اقسام یہ ہیں
1- جہاد الکبر
یہ جہاد نفس کے خلاف ہوتا ہے( اس جہاد کے بارے میں بہت کم سننے میں آتا ہے)۔

2- جہاد الاصغر
یہ مسلحہ جہاد ہوتا ہے (یہ ہی وہ جہاد ہے جس پر آج کل بہت زور دیا جاتا ہے)۔

مسلمان اسکالرز نے جہاد کی کئی اقسام بتائی ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں

1-- جہاد فی سبیل اللہ
2-- جہاد بن نفس/ قلب
3-- جہاد بن لسن
یہ جہاد زبان سے کیا جاتا ہے
4-- جہاد بل قلم/ علم
5-- جہاد بل ید
یہ جہاد ہاتھہ سے کیا جاتا ہے


اس پوسٹ کی اگلی کڑی میں میں انشااللہ آج کے مسلمان اور جہاد کے عنوان سے لکھوں گا

اجمل انکل نے مجھہ سے یہ سوال کیا تھا کہ جہادی تنظیمیں کیا ہیں تو اس سے پہلے کہ میں ان کے سوال کا جواب پوسٹ کروں کیوں نہ ایک تفصیلی پوسٹ لکھہ دوں ۔۔۔۔ یہ اسی سوال کے جواب کے سلسلے کا پہلا حصہ ہے ۔



source:

Islam Q&A: Is it obligatory for every Muslim to go out for jihad?
Online book about Jihad: "Jihad in the Qur'an: The Truth from the Source
Jihad: Not Only Fighting
http://en.wikipedia.org/wiki/Jihad


Comments:
جسے آپ نے جهاد الاصغر لكها هے ـ يەى جهاد هے ـ يه جهاد كى ايكـ هى قسم هے ـ باقى سارى اقسام چندے كهانے والے ابن الوقت قسم كے علماء كى اور برطانوى راج ميں كوروں كے بنائے هوئے نبى مرزاغلام احمد صاحب كے فتوے اور وضاحتيں هيں ـ
مرزا صاحب نے تو اپنى شريعت ميں جهاد كو كينسل هى كر ديا هے ـيا پهر حكومت كى اجازت سے مشروط كرديا هے چاهے وه حكومت جابر سلطان هى هو ـ
آپ اس طرح كريں كه قرآن كا ترجمه غور سے پڑهيں باقى سب فلسفے چهوڑ ديں اپ پر ايسے ايسے حقائق آشكار هوں گے كه ــ ـ ـ ـ ـ ـ
 
خاور! یہ پوسٹ میرے خیالات پر مبنی نہیں ہے یہ وہ ہے جو اسلام میں ہے اور جس پر ہمارے اسلامی اسکالرز متفق ہیں جہاں آپ نے باقی اقسام کو چندہ جمع کرنے کا بہانہ قرار دیا ہے یہ ٹھیک نہیں کیونکہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ باہر کی دنیا میں بھی چندہ صرف جہادالاصغر کے نام سے ہی جمع کیا جاتا ہے ۔ باقی تنظیمیں جو دوسری قسم کا جہاد کررہی ہیں وہ جہاد کا لفظ استعمال نہیں کرتی ان کو ہم پاکستان میں بھی این جی اوز ہی کہتے ہیں ۔۔
خاور آپ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جو پاکستانی لڑکے پاکستان سے باہر رہے رہے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو اسلام سے جوڑے ہوئے ہیں کچھ ایسا ہی حال میرا بھی ہے گناہ گار تو ہوں پر کوشش کرتا ہوں اسلام سے جڑا رہوں ۔۔ اگر ہم قران شریف کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگاکہ نماز اور زکواۃ پر ذورزیادہ دیا گیا ہے ہم کتنے مسلمان نماز اور زکواۃ کی پابندی کرتے ہیں ۔۔ اور زکواۃ دیتے ہوئے تو ہم پاکستانیوں کو پسینہ آنے لگتا ہے
ہم قیامت کے دن اپنی بخشش کا حل جہاد میں میں تلاش کررہے ہیں اور بہت سے مسلمان اسے ہی اسلام کا سب سر بڑا ستون گردانے لگے ہیں
 
میں نے آپ سے لفظ ۔ جہادی ۔ کی وجہ تسمیہ پوچھی تھی یعنی یہ لفظ کیسے بنا ۔ اب آپ نے خود ہی لکھ دیا ہے کہ ۔ وہ مسلمان جو جہاد کرتے ہیں انھیں مجاہدین کہا جاتا ہے ۔ تو پھر جہادی کیا ہوا ؟ کہیں اس لفظ سے مجاہد کی تضحیک تو مطلوب نہیں ؟ کیا ایسا نہیں کہ یہ لفظ اسلام کے دشمنوں نے ایجاد کیا ہے ۔

جو واقعہ آپ نے درج کیا ہے اس سلسلہ میں آپ ذرا تحقیق کیجئے ۔ ان صحابی کے والدین بوڑھے اور لاغر تھے اور اس کے علاوہ ان کی دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی نہ تھا ۔ اسی لئے وہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم کے پاس حاضر ہوۓ تھے ورنہ جب جہاد (جنگ) جاری ہو تو پھر محاذ جنگ پر جانا فرض ہوتا ہے اور اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

آپ نے بالکل ٹھیک لکھا ہے کہ جہاد کے لفظی معنی جدوجہد ہیں مگر جہاد صرف فلاحی ہوتا ہے چاہے مسلحہ ہو یا غیر مسلحہ

جہاد کی دو بڑی اقسام نہیں ہیں بلکہ جہاد کی کئی قسمیں ہیں ۔

جہاد کی قسمیں آپ نے کہاں سے نقل کی ہیں ؟ ان میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ جہاد کی ایک قسم نہیں ہے ۔ اسلام میں جہاد تو ہوتا ہی فی سبیل اللہ ہے ورنہ وہ جہاد تو کیا نیک کام بھی نہیں ہوتا ۔ باقی چار قسمیں جہاد کی جو آپ نے لکھی ہیں وہ امن کے زمانہ کی ہیں ۔ ان میں قتال شامل نہیں ہے ۔

جہاد کی قسمیں : حلال رزق کمانا ۔ اپنی تعلیم و تربیت ۔ بچوں کی تعلیم و تربیت ۔ دوسروں کو علم و ہنر سیکھانا ۔ بدی کو روکنا ۔ نفس کی شیطانی خواہشات کے خلاف محنت ۔ دین کی ترویج ۔ اپنی قوم یا ملک کی حفاظت ۔ ظلم کو روکنا جس میں قتال بھی شامل ہے جسے آجکل ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے ۔ آجکل عرف عام میں صرف قتال کو جہاد کہا جاتا ہے ۔

دین کے جن ارکان کو آپ نے ستون لکھا ہے یہی ہماری ناقص تعلیم کا ایک ثبوت ہے ۔ پرائمری جماعت کے بچوں کے لئے یہ کہنا کافی ہے ایمان ۔ صلاتہ ۔ صوم ۔ زکاتہ اور حج اسلام کے ارکان میں سے ہیں نہ کہ صرف یہی ارکان ہیں ۔ ان کی معافی تو اللہ چاہے تو دے سکتا ہے مگر جن چیزوں کی معافی اللہ نے خود کہا ہے کہ نہیں دوں گا کیا وہ اسلام کے ارکان نہیں ہیں ؟ وہ ہیں حقوق الاعباد ۔ سلوک ۔ لین دین ۔ کاروبار ۔ عدالت ۔ وغیرہ ۔ اسی لئے علامہ اقبال نے کہا ہے
زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
 
The new look is good!
 
آپ پر سلامتی ہو ۔

آپ کا بلاگ خوبصورت ہے ۔ پر میں آپ کے بلاگ پر فونٹس صحیح طرح سے نہیں پڑھ پا رہا ۔ کیا مجھے ان کو صحیح طرح سے پڑھنے کے لیے مزید فونٹس درکار ہیں ؟
 
اول جہاد اپنے نفس کو قابو کرنا ہے۔

کاش ہم اپنے نفس کو قابو کرنا سیکھ جائیں۔
 
Assalam o alaykum w..w!

happy new year and why are u lost noblopgging sicnce november quite a time!!!

Hop doing good1

wassalam
 
اجمل انکل ! کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ چودہ سو سال پہلے مسلم اسکالرز اور علماء نے جو رسرچ کی اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم اور قران شریف کی روشنی میں جو اسلام کے معیار قا‏ئم کیے ہیں وہ غلط ہیں ۔۔۔ اور آج کے مسلمان چند گنے چنے مصنفین کی کتابیں پڑھ کر اپنا ایک خاص معیار قائم کرنا چاہ رہے ہیں وہ صیحح ہیں ۔۔ جیسا کہ طالبان نے اپنا ایک ذادی اسلام قائم کر کے معیار قائم کیا تھا وہ معیار ہم نے دیکھا اور اسکا انجام بھی

اسماء! شکریہ ۔۔۔ آپکو بھی نئے سال کی مبارک ہو ۔۔ آفس میں اور فیملی میں مصروفیات بہت بڑھ گئی تھیں جس کی وجہ سے میں اپنے بلاگ پر کچھ لکھ نہیں سکا

شمیل! معافی چاہتا ہوں یہ میرا نیا ٹیمپلیٹ ہے اور نیا ٹیمپلیٹ استعمال کرنے کے بعد مصروفیات کچھ بڑھ گئیں تھیں اس لیے اس پر ابھی کام نہیں کیا ہے

ای ملا! میں آپکی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں
 
Cool blog, interesting information... Keep it UP » » »
 
What a great site »
 
Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]





<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?

Subscribe to Posts [Atom]