Friday, March 31, 2006

 

ایک پوسٹ ۔۔۔ ایک افسانہ

کارٹون ۔۔۔۔ از ڈاکٹر بلند اقبال

محمد شجاع دبے پا‌وں
کمرے میں داخل ہوا کمرے میں ہمیشہ کی طرح اندھیرا تھا ۔ ایک لمحے کیلئے اسے خیال آیا کہ بتی جلائے مگر پھر اس خیال سے کہ بابا کو روشنی سے وحشت سی ہوتی ہے اس نے اپنا ارادہ ترک کردیا بابا ہمیشہ کی طرح چارپائی پر بیٹھا سر جھکائے زمین کو تک رہا تھا کندھوں پہ سفید سوتی چادر سر کو ڈھکتی ہوئی چارپائی کے کناروں کو چھورہی تھی کمرے میں کہنے کو ایک گہری خاموشی تھی مگر ماحول میں سکون کم وحشت زیادہ تھی ایسی وحشت جو کسی کے مرنے سے پہلے یا فوران بعد ہوجاتی ہے

محمد شجاع بابا کے قریب آیا اور اس کی چارپائی کے قریب اکڑوں ہو کر بیٹھ گیا اور پھر اس نے آہستگی سے بابا کے جھریوں بھرے کانپتے ہوئے ہاتھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ دیے۔ بابا میری مدد کرو نا وہ آہستہ سے بڑبڑایا دیکھونا بابا میں کتنا پریشان ہوں یہ مجھے کیا ہوگیا ہے۔ کیسی عجیب سی بیماری مجھے لگ گئی ہے جس کا علاج کسی حکیم کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں اور جب بھی میں کسی سے اس کا تذکرہ کرتا ہوں تو لوگ مجھ پہ ہنستے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ جیسے میں ان سے مذاق کر رہا ہوں بابا مگر تم تو میرے باپ ہونا تم تو مجھے بچپن سے جانتے ہو اب تو میں بھی پچاس برس کا ہوچلا ہوں میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے تمھیں پتہ ہے بابا محمد شجاع نے اپنے باپ کے کان میں سرگوشی کی میرے اندر ایک کارٹون رہتا ہے ہاں بابا ایک کارٹون،جیتا جاگتا کارٹون، ناچتا گاتا ، اچھلتا پھانگتا ، منہ چڑانے والا کارٹون، بابا وہ کارٹون ہو بہو میری شکل کا ہے میرے جیسا ناک نقشہ میری ہی جیسی ادائیں وہ اچانک مجھ میں سے نمودار ہوتا ہے تمھیں پتہ ہے بابا پہلی بار میں نے اسے کب دیکھا تھا؟ میں مسجد سے نماز پڑھ کر نکل رہا تھا میرے ہاتھوں میں تمہاری ہی دی ہوئی تسبیح تھی جس کے دانوں کو میں پڑھتا ہوا میں گھر آرہا تھا کہ اس کی دم لمبی ہوگئی اور شکل بندر جیسی اور پھر ایسے لگا جیسے کہہ رہا ہو کہ یہ ساری نمازیں پڑھ کر بھی تو مجھے بندر جیسا لگتا ہے ہاں بابا یہ ٹھیک ہے میں ضرورتوں اور خواہشوں کا محتاج ہوں میں بھی مصلحتوں کا مارا ہوا انسان ہوں آساشوں کا طلبگار ہوں مجھ میں نمائش ہے ظاہرداری ہے میں غیبت بھی کرتا ہوں رشوت بھی لیتا ہوں اور جو وقت پڑے تو دوسروں کا مال بھی کھا جاتا ہوں مگر بابا پھر میں دن رات عبادتیں بھی تو کرتا ہوں اور ہاں بابا تمھیں پتہ ہے جب میں روز صبح قران شریف کی تلاوت کرتا ہوں تو یہ کمبخت کارٹون مجھ میں سے نکل کر کسی طوطے کی شکل میں ڈھل جاتا ہے اور پھر مجھ سے ٹرا ٹرا کر کہتا ہے تو کتا پڑھ بھی طوطےجیسا لگتا ہے کیونکہ تو اسے طوطے کی طرح تو پڑھتا ہے اور پھر وہ اپنی کرہیہ آواز سے زور زور سے دہراتا ہے تجھے معنی اور مطلب سے کیا مطلب؟ اور بابا جب میں روزے رکھتا ہوں تو یہ کارٹون میرے پیٹ کا کیڑا بن جاتا ہے اور اندر سے میرے خالی پیٹ کو ڈھول کی طرح بجاتا ہے اور کہتا ہے جیسا دماغ ویساپیٹ، بابا تم ہی کہو اگر میرے پڑوسی بھوکے سوتے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور میں تو روزے کی پیاس جنت کے دودھ کی نہروں سے بجھانا چاہتا ہوں بابا مجھے بتاؤ نا آخر یہ کارٹون مجھ سے کیا چاہتا ہے تمھیں پتا ہے بابا کل رات اس نے کیا حرکت کی؟ کل رات یہ کہیں سے ایک ترازولے آیا اور وہ بھی ایک پلڑے کا اور پھر مجھ سے چیخ چیخ کر کہنے لگا تیری زندگی محض ایک پنساری کی دوکان ہے اور پھر مجھے دیکھ کر پیٹ پکڑ پکڑ کر ہنستا اور قلابازیاں لگاتا ہوا اچانک نظروں کے سامنے سے غائب ہوگیا۔ اور پھر یکایک ایک بھوت بن کر آگیا اور چیخ کر کہنے لگا ترازو کے ایک پلڑے پہ یہ تیری عبادیتں اور دوسرا پلڑا جیسے بھوت ۔ بابا مجھے بہت ڈر لگتا ہے کچھ کہو نا بابا میں کیا کروں؟ کیسے اس کمبخت کارٹون سے نجات پاؤں۔
یہ کہہ کر محمد شجاع دھاڑے مار مار کر رونے لگا کچھ دیر بعد بابا نے آہستہ سے اپنا سر اٹھایا ۔ محمد شجاع نے دیکھا کہ بابا کی سفید پلکوں پہ آنسوں چمک رہے تھے اس کا چہرہ جیسے کسی اندرونی کرب سے کانپ رہا تھا بابا نے روتے ہوئے کہا بیٹا تو مجھ سے کیا پوچھ رہا ہے میں تو خود بھی ایک ۔۔۔۔

اور محمد شجاع کو اچانک لگا جیسے اس کے باپ کی روتی ہوئی شکل ہو بہو اس کے کارٹون جیسی ہی تو ہے
لنکس
کتاب گھر
اردو داں

Comments:
افسانہ خوب ھے۔
کتاب گھر اور اردوداں رابطوں کیلئے شکریہ۔ لیکن افسانے سے ان کا تعلق سمجھ میں نہیں آیا۔
 
اردو داں! آپ کے بلاگ کا لنک اس لیے دیا کہ کتاب گھر کا لنک آپ کے بلاگ سے ملا اور آپ کے بلاگ میں بہت سے اردو کے کارآمد لنکس ہیں
یہ افسانہ میں نے کتاب گھر پر پڑھا تھا ۔۔ اس لیے کتاب گھر کا لنک دیا ہے
 
آپ کی فراخ دلی سے میں متاثر ھوا۔
 
urduDaan! Shukrya
 
This is very interesting site... http://www.voyeur-4.info
 
Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]





<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?

Subscribe to Posts [Atom]